از قلم جن زاد
قسط 2
پچھلی قسط کا لنک نیچے پہلے کمنٹ میں موجود ہے ۔
وہ مردانہ حسن و جوانی کا پيكر تھا اسکی شخصیت انتہائی پرکشش تھی ۔ اس میں ایک عجیب سا سحر تھا ۔ اس کی عقاب جیسی آنکھوں نے اسے ہپنوٹائز کر دیا تھا ۔
اس نے دل ہی دل میں خود سے سوال کیا ، یہ کون ہے ۔۔۔ یہ اندر کیسے آگیا ۔ دروازے اور کھڑکیاں سب تو بند ہیں ۔ اور وہ جو بھیانک شیطان میں نے بے ہوش ہونے سے پہلے دیکھا تھا وہ کہاں گیا ۔۔اوہ خدا ! یہ سب کیا ہے ؟ میں پاگل ہو جاؤں گی ۔ یہ سپنا ہی معلوم ہوتا ہے ۔ سپنے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔
تم ........... تم کون ہو .... آخر کار اس نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوے پوچھ ہی لیا ۔ ” وہ شیطان کہاں ہے ؟ کیا تم وہی ہو ..... ؟
ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ ‘ ‘ وہ پرسکون اور پر اعتماد لہجے میں بولا ۔ ” مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں یاسمین ‘ ‘
لیکن تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم اندر آۓ کیسے ؟ اس نے خود کو سنبھالتے ہوۓ تیزی سے کہا ۔ ” کیا پہلے سے یھاں چھپے ہوۓ تھے ؟ ‘ ‘
تمہیں خوف زدہ ، یا پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ۔ تمہیں اپنے ہر سوال کا واضح جواب مل جائے گا ۔ “ اس کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ بالکل واضح اور صاف تھا ۔
اس شخص کی آواز میں کوئی سحر تھا کہ اس کی باتیں سن کر یاسمین کی حیرت اور لرزا دینے والا خوف جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا ۔ وہ کہنے لگا ۔ " یاسمین !
اتنا کہہ کر وہ اس کی مسہری کے اور قریب آیا ۔ میں بات کو بلا وجہ گھما پھرا کے کہنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ میں انسان نہیں بلکہ جن ہوں ۔میرا نام جن زاد ہے ۔۔۔میں وہی جن ہوں جو تم نے کچھ دیر پہلے دیکھا تھا اور بے ہوش ہوگئیں تھیں ۔
میں اس وقت ایک انسان کے روپ میں ہوں ۔ شاید تمہیں جنات کے متعلق معلوم ہوگا ۔ لیکن میں پھر بھی تمہیں بتا دیتا ہوں ۔ جس طرح انسانوں کی دنیا ہے اس طرح ہمارا بھی ایک جہاں ہے ۔ دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ہم آباد نہ ہوں ۔ہم بھی انسانوں کی طرح ہر رنگ ۔ نسل اور قوم کی صورت میں موجود ہیں ۔ جس طرح تم لوگوں کا خدا ہے اسی طرح ہمارا بھی خدا ہے ۔
ہم میں بھی مذاھب ہوتے ہیں ۔ . . ذات اور قومیں ہوتی ہیں ۔۔۔ ۔ ۔ جن کسی بھی انسان یا جانور کا روپ دھار سکتا ہے ۔ ان کی زبان بول سکتا ہے ۔ جن جس حسین سے حسین عورت کو چاہے اسے اپنا اسیر بنا سکتا ہے ۔۔جب کوئی انسان ہمارے قبضے میں آجاے تو پھر وہ ہماری کسی بات سے انکار نہیں کر سکتا ۔
ہم جنات کے نزدیک انسان سے زیادہ خطرناک ، موذی اور مہلک کوئی نہیں ہے ۔ جب کوئی انسان ہم میں سے کسی جن کے شر کا شکار بنتا ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے ۔ لیکن جب کوئی انسان کسی جن کو ہلاک کر دیتا یا اپنے قابو میں کر لیتا ہے تو ہمیں بہت دکھ اور افسوس ہوتا ہے ۔
میں پچھلے دو سو برس سے انسانوں کو ستاتا آرہا ہوں ۔ میں نہ صرف انھیں خوفزدہ کرتا آیا ہوں بلکہ ان پر خوب تشدد کر کے انکا کا سارا خون بھی پیتا ہوں ۔
گو کہ انسان کے پاس ہم جنات سے چھٹکآرا پانے کے بہت راستے ہیں ۔۔ میرا متاثرہ آدی اس وقت زندگی پاتا ہے جب بروقت اور فوری کسی اچھے عامل کے پاس پہنچ جاۓ ۔ ورنہ اگر تھوڑی بہت دیر ہو جاے تو میرا شکار پچ نہیں پاتا ۔ کیونکہ میرا وار موت کے فرشتے کی طرح بے رحم اور سفاک ہے ۔ انسانوں کا خون پینے کی ریت بھی میں نے ہی ڈالی ہے ۔
تم یہ بات جاننا چاہوگی کہ میں انسان کا خون کیوں پی جاتا ہوں ؟؟
یاسمین حیرت سے اسکی باتیں سن رہی تھی ۔۔
اس لیے کہ جو لذت ، ذائقہ اور مزا انسانی خون میں ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں ۔ میں ساری دنیا کے تمام پھل کھا چکا ہوں ۔ ان کا رس پی چکا ہوں ۔ اس کے علاوہ انسانوں اور جنات کے بنے ہوے ہرقسم کے کھانے بھی کھا چکا ہوں ۔لیکن ایسی لزت دنیا کی کسی چیز میں نہیں جو انسانی خون میں ہے ۔۔۔
ایسی لزت اور ذائقہ دوسرے کسی بھی جان دار کے خون میں نہیں ہے ۔ نہ شیر ، ، نہ ہاتھی ، نہ ریچھ ، نہ تیندوا ۔۔۔۔ ۔ یہ خوبی صرف اور صرف انسان کے خون میں ہے ۔ اس میں ایک عجیب اور غیر معمولی طاقت ہے ۔ اگر انسان انسان کا خون پی لے تو وہ سدا نو جوان اور شباب آور رہے ۔ کوئی کمزوری اور بڑھاپا اس کے قریب نہی آیے گا ۔ وہ خاموشی سے اس کی باتیں سنتی رہی ۔ پھر اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا ۔ اس کا بدن خوف و دہشت سے لرزنے لگا ۔ الماری میں ریوالور رکھا ہوا تھا ۔ لیکن اس میں اتنی ہمت اور سکت نہیں تھی کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت کر سکے ۔ ایک سات لمبا جن اس کی راہ میں حائل تھا ۔ جس کا سینہ چوڑا تھا ۔ جسم اور بازو فولادی معلوم ہوتے تھے ۔ وہ الماری کی طرف بڑھتی تو یہ جن اسے دبوچ لیتا ۔ اس جن کے بازوؤں میں اس کا دم نکل جاتا ۔ پسلیاں اور ہڈیاں ٹوٹ جاتیں ۔
اس نے رک رک کر کہا ۔۔۔ کیا تم مجھے ڈرانے کے لیے آۓ ہو ؟ یا پھر اگر نقصان پہنچانے یا میرا خون پینے آۓ ہو تو پھر دیر کس بات کی ؟ پی کیوں نہیں لیتے ؟ جلدی سے مجھے ختم کر دو ۔ میں خوف و ہراس اور دہشت کے کرب و اذیت سے موت کا انتظار نہیں کرنا چاہتی ۔ جتنا جلد ہو سکے مجھے ختم کر کے اس عذاب سے نجات دلا دو ۔ “
...... ۔ وہ ہنسا ۔ ”نہی میں تمہارا خون پینے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچانے آیا ہوں ۔ میں تمہارے حسن و شباب اور کشش سے متاثر ہو کر آیا ہوں ۔ اب جب کہ تم نے مجھے جی بھر کے دیکھ لیا ہے تو یہاں کیوں اور کس لیے کھڑے ہوۓ ہو ۔ ‘ ‘
وہ اکڑ کر بولی ۔ ” میں نے سنا ہے کہ جننیاں بہت حسین ہوتی ہیں ۔ ان کے حسن کا تو کوئی ثانی نہی ۔۔ ۔ پھر بھلا میرا ان سے کیا مقابلہ ؟ ‘ ‘
اس بات میں کوئی شک نہی کہ ہماری جننیاں بھی بہت حسین ہوتی ہیں ۔ “ جن زاد نے نے جواب دیا ۔ لیکن انسان سے زیادہ خوب صورتی کسی میں نہیں ہوتی ۔۔انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ اور پھر خدا نے انسانی عورت کو اس قدر حسین بنایا ہے کہ اس کی جتنی بھی تعریف کی جاۓ کم ہے ۔ میں نے اپنی زندگی کے 200 برسوں میں نہ جانے کتنی حسین و جمیل لڑکیاں اور عورتیں دیکھیں ۔ ۔ لیکن ان میں سے کسی کے ساتھ وقت گزارنے کو دل نہ کیا ۔۔۔ مجھے صرف جننیوں کے ساتھ ہی وقت گزاری کی اجازت ہے ۔ لیکن تمہارا حسن دیکھ کر میں خود کو روک نہیں پایا ۔۔میں نے کل رات اپنی تمام حدیں توڑ کر تمہیں اپنی باہوں میں دبوچ لیا تھا ۔۔۔
کل چودھویں کی رات سمندر کنارے میں اپنی محبوبہ سبیلہ کی تلاش میں آیا تھا ۔ لیکن تمہیں دیکھ کر اسے بھول گیا ۔ “ اچھا تو وہ نا دیدہ ہستی تم تھے ؟ وہ ایک دم سے چونک کر حیرت بھرے لہجے میں بولی ۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ ”
کیا تم نے میرا وجود محسوس کر لیا تھا ؟ ‘ ‘
جن زاد نے اس کے حسین چہرے پر نظریں مرکوز کرتے ہوے پوچھا ۔
’ ’ ہاں ‘ ‘ اس نے اپنا سر اثباتی انداز میں ہلا کر جواب دیا ۔ ‘ ‘ میں نے چاندنی رات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے محسوس کر لیا تھا کہ کوئی نادیدہ ہستی بالکل میرے قریب موجود ہے ۔
پہلے میں نے اسے اپنا واہمہ سمجھا تھا ۔ لیکن جب بستر پر تم نے مجھے اپنی باہوں میں بھرا تو تب میں جاگ گئی تھی ۔میں نے تمھارے جسم کے لمس سے پہچان لیا تھا کہ یہ میرا شوہر نہی ہے ۔۔
لیکن تم نے حد سے تجاوز کیوں نہیں کیا ۔ روشنی ہوتے ہی تم غائب ہو گئے ۔ کیا تم روشنی اور میرے شوہر کی موجودگی سے ڈر گئے تھے ؟
کیا تم نے مجھے باہوں کے حصار میں بھرنے کے علاوہ دوسری کوئی نامناسب حرکت کرنا مناسب نہ سمجھا ؟ ‘ ‘
روشنی اور تمہارے شوھر کی موجودگی سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ‘ ‘ جن زاد نے جواب دیا ۔
اس رات میں صرف جی بھر کے تمہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔ میں یہ چاہتا تھا کہ جب میں تمہارے روبرو آؤں تب ہم دونوں کے سوا کوئی اور نہ ہو ۔
میں چاہتا تو تمہارے خاوند کو نیند میں ہی ہلاک کر کے اس کی لاش ویرانوں میں ڈال آتا ۔ لیکن تمہیں بیوہ کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔ پھر میں نے فیصلہ کیا تمہارے خاوند کو راستے سے ہٹانے کے بجاۓ کیوں نہ کسی مناسب وقت کا انتظار کرلوں ۔
لیکن زیادہ انتظار کی نوبت نہیں آئی ۔ تمہارا شوہر اتفاق سے خود ہی کچھ دنوں کے لیے چلا گیا ۔ اس طرح میرا راستہ آپنے آپ ہی صاف ہو گیا ۔ نہیں ... نہیں ‘ ‘ وہ جذباتی لیجے میں بولی ۔ ” تم میرے قریب مت آنا ۔ مجھے چھونا مت ۔ میں کوئی کھلی مٹھائی نہیں کہ جس کا دل چاہے مجھے سے لطف اندوز ہو جائے ۔۔۔مجھ پر صرف میرے شوہر کا حق ہے ۔۔
میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تم ایک نہایت حسین عورت ہو ۔ ‘ ‘ وہ تعریفی انداز میں بولا ۔
پھر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوے گویا ہوا ۔میرے لئے شریف اور بدکار عورت ایک ہی بات ہے ۔ میں تمہارے قریب نہ آؤں اور تمہیں نہ چھوؤں یہ کیسے ممکن ہے ۔
اس رات دودھیا چاندنی میں سمندر کنارے تمہیں جس حالت میں دیکھا اس نے مجھے پاگل کر دیا ۔ وہ رات میں نے جیسے تیسے صبر کر کے گزار لی تھی ۔ لیکن آج کی رات تم مجھے اپنے پاس آنے سے باز نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی میں خود کو روک پاؤں گا ۔ میں پو پھٹنے تک تمہارے ساتھ رہوں گا ۔ تم کسی صورت مجھ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتیں ۔ تمہارا انکار مزاحمت اور چیخ و پکار کسی کام نہیں آۓ گا ۔۔
میں تم سے زبردستی کر کے تمہیں تکلیف پہنچاوں اس سے بہتر ہے تم اپنی مرضی سے اپنا یہ نشیلا بدن مجھے سونپ دو ۔۔۔میں تمہیں اس لزت سے آشنا کرآؤں گا کہ تم دنیا کی ہر لذت ہر نشہ بھول جاؤ گی ۔۔۔
میں تمہیں ایسی جنسی لذت سے روشناس کرآؤں گا کہ ایسی لذت ایسا مزہ نہ تم نے نہ کبھی پایا ہوگا اور نہ رہتی زندگی تک دوبارہ کبھی پا سکو گی ۔۔
مجھ جیسا مرد نہ تمہاری زندگی میں کبھی آیا ہوگا اور نہ کبھی آۓ گا تم مجھے اپنی زندگی کی آخری سانس تک یاد کر کے مجھ سے ایک بار پھر ملنے کی آرزو کرتی پھرو گی ۔۔ ۔ تم مجھ سے صرف ایک ملاقات کی آرزو دل میں بسائے مجھے ہر ویرانے ہر جنگل ہر شہر ہر مرد میں ڈھونڈو گی لیکن تمہاری یہ آرزو کبھی پوری نہیں ہوگی ۔ کیونکہ میں دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آونگا ۔ میں اپنی صرف تین راتیں تمہارے ساتھ گزاروں گا اور پھر ہمیشہ کے لئے تم سے بہت دور چلا جاؤں گا ۔۔ ۔ “
یہ کہتے ہوئے وہ بستر پرآ گیا ۔ جن زاد کی باتوں نے اس پر کچھ ایسا سحر کیا تھا کہ اس کا انگ انگ جن زاد کی قربت کو ترسنے لگا ۔ وہ اس وقت یہ بھول چکی تھی کہ وہ دیو قامت جن انسان کے روپ میں اس کی عزت کا دشمن ہے ۔
جب جن زاد اسکے قریب آنے لگا تو اسکے سارے بدن میں لطف کی چنگاریاں بھر گئیں ۔ اسکے چھونے پر وہ ساکت و جامد بیٹھی رہی ۔ دیکھتی رہی کہ یہ کیا کرتا ہے ۔ چپ چاپ اسکے آغوش میں لیٹی اسے دیکھتی رہی ۔ پھر وہ اس کے قریب آ گیا ۔ اس کا لمس بڑا لطیف اور انوکھا تھا ۔ یہ بات اس کے شوہر میں نہیں تھی ۔ اسے ایسا محسوس ہوا اس کے سارے بدن میں سنسنی پھیل گئی اور اس کے عضو عضو سے لطف و سرور کے فوارے ابل پڑے ہیں ۔۔۔ اس پر موت کی سی غنودگی چھانے لگی ۔ وہ اس کے اور قریب ہوا اور پھر ان کے درمیان کوئی فاصلہ اور حجاب نہ رہا ۔ اسے ذرا برابر بھی محسوس نہیں ہوا تھا کہ یہ انسان نہیں جن ہے ۔ اس کی حرکات و سکنات ، جذبات اور لب ولہجہ ساحرانہ تھا ۔ والہانہ پن اور رمان انگیز لحات میں وہ یہ بات بھول گئی تھی کہ ایک جن زاد سے ہمبستری اسکے نازق بدن کے لئے لئے خرناک بھی ہوسکتی ہے یا پھر اسکی جان بھی جاسکتی ہے ۔۔ ۔ اس نے اپنے آپ کو پوری خود سپردگی سے اس جن کے حوالے کر دیا تھا ۔۔۔جن زاد نے جب اسے کپڑوں کی قید سے آزاد کیا تو وہ کسی تتلی کی مانند پھڑپھڑانے لگی ۔۔اسکا انگ انگ لشکارے مار رہا تھا ۔۔۔۔اسکے ہونٹوں کا لمس اسکے جسم میں ہجانی گدگدی پیدا کر رہا تھا ۔۔۔جب جن زاد نے اسکا سینا اپنے سخت ہاتھوں میں جکڑا تو اسے ایسا سرور آیا جیسے اس کی روح جن زاد کے ہاتھوں میں قید ہوگئی ہو ۔۔۔
جب جن زاد نے اسکے ہونٹوں کو چوما تو اسے اپنے لب شرینی میں بھیگتے ہوے محسوس ہوے ۔۔۔اسے ایسی مٹھاس اپنے اندر سماتی محسوس ہوئی جیسے اسے اٹھا کر شہد کے دریا میں ڈبو دیا گیا ہو ۔۔۔۔اسکا ہر انداز نرالا اور بے باک تھا ۔۔۔کبھی تو سرور میں اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے ابھی اسکی روح جسم سے پرواز کر جاے گی ۔۔۔جب جن زاد اسے اپنی باہوں کے گھیرےمیں لیتا تو اسے اپنے بدن کا ریشہ ریشہ چنگاریاں چھوڑتا محسوس ہوتا ۔۔۔ساری رات حسن و شباب اور اور جناتی محبت کی ندياں بہتی رہیں ۔۔۔وہ خود کو مستی کی گہرایوں میں ڈوبتا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔اسکا انگ انگ لشکارے مار رہا تھا ۔۔وہ خود کو سلطنت لطف و سرور کی ملكه تصور کر رہی تھی ۔۔۔
اسے اس بات کا احساس بھی نہ رہا تھا کہ وہ ساری رات ایک غیر مرد کی آغوش میں رہی ہے ۔ جن زاد نے اسے کھلونا بنایا ہوا تھا ۔وہ اس بات کو بھی بھول گئی تھی کہ وہ اپنے شوہر کی امانت ہے ۔ جب پو پھٹ رہی تھی تب جن زاد خاموشی سے بستر سے نکلا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھلی کھڑکی باہر فضا میں بلند ہو گیا ۔۔۔یاسمین میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ کھڑکی کے پاس جا کر باہر جھانک کر اسے جاتا دیکھتی۔۔۔۔ ۔ یہ کھڑکی اس نے رات کو ناجانے کیوں اور کس لیے کھولی تھی اسے یاد نہیں آیا ۔ اس کی نس نس میں لطیف احساس برپا تھا ۔ اسے اپنا خون بھی رقص کرتا محسوس ہو رہا تھا ۔ سارے بدن میں سنسنی سی بھری تھی ۔ اس کا جوڑ جوڑ ٹوٹنے لگا ۔ بستر پر بے چینی سے کروٹیں بدلتے ہوۓ اسکے روئیں روئیں میں بھڑکتی چنگاڑیاں کب سرد ہوئیں اور کب نیند آئی اسے کچھ پتا نہیں چلا ۔ اس پر پرانی شراب کا سا خمار چھایا ہوا تھا ۔
جب صبح اس کی آنکھ کھلی تو دن چڑھ آیا تھا ۔ اس نے تھکے تھکے انداز سے انگڑائی لی اور سنگار میز میں لگے آئینے کے سامنے جا بیٹھی ۔ چند لمحوں کے بعد اسے سب یاد آ گیا ۔ وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔ جن زاد نے اس کے دل و دماغ پر ایسا جادو کیا تھا کہ اسے کسی بات کا ہوش نہ رہا تھا ۔ یا پھر وہ خود کو ہی دھوکہ دے رہی تھی اور اس سب کا ذمہ دار صرف جن زاد کو ٹھرا کر خود بری الزمہ ہونا چاہتی تھی ۔۔۔ جن زاد ساری رات اسے بھبھوڑتا رہا تھا ۔ اسے ایسا لگا جیسے رات بھر اس کے وجود پر عطر کی بوتلیں انڈیلی جاتی رہی ہوں ۔۔ ۔
نوٹ ⛔
دوستو جو لوگ اس کہانی کی تمام اقساط پڑھنا چاہتے ہیں مجھے فرینڈ ریقويسٹ بھیج دیں ۔ تاکہ میں جب بھی اگلی قسط پوسٹ کروں تو آپ لوگوں کو نوٹیفکیشن مل جایا کرے ۔۔۔دوستو پوسٹ کو شیئر بھی ضرور کریں ۔۔
شیطان کی محبوبہ
از قلم جن زاد
قسط 3
نوٹ ⛔
دوستو جو لوگ اس کہانی کی تمام اقساط پڑھنا چاہتے ہیں مجھے فرینڈ ریقويسٹ بھیج دیں ۔ تاکہ میں جب بھی اگلی قسط پوسٹ کروں تو آپ لوگوں کو نوٹیفکیشن مل جایا کرے ۔۔۔دوستو پوسٹ کو شیئر بھی ضرور کریں ۔۔
اگلے دن یاسمین سارا وقت جنزاد کے خیالوں میں کھوئی اسے یاد کرتی رہی ۔۔ ۔۔۔آج اس نے ملازمہ کو بھی چھٹی دے دی تھی ۔۔
آج تو سر شام ہی اس نے جن زاد کے استقبال کی تیاری شروع کر دی تھی ۔۔۔شاید آج اسکا جن زاد پر حسن کے وار کر کے اسے قتل کرنے کا ارادہ تھا ۔۔
وہ بازار سے پھول بھی خرید لائی تھی ۔۔پورا گھر گلاب اور چمبیلی کی خوشبووں سے مہک رہا تھا۔۔
سورج ڈھلتے ہی اسنے اپنے آپ کو گھر میں مقفل کر لیا اور دلہن کی طرح سجنے سنورنے لگی ۔۔۔
نہانے کے بعد اسنے اپنے جسم پر زعفران کی خوشبو انڈیل لی تھی ۔۔۔۔پھر عروسی لباس زیب تن کیا اور سنگھار میز کے سامنے بیٹھ کر خود کو نکھارنے لگی ۔۔۔
تاریکی چھاتے ہی وہ قیامت کا روپ دھارے بستر پر بیٹھی جن زاد کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
جن ذاد نے بھی آج اسے زیادہ انتظار نہیں کرآیا تھا ۔۔اسے بستر پر بیٹھے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ یکایک کمرے کی کھڑکی دھڑام سے کھلی اور اور جن زاد اندر وارد ہوا ۔۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کوئی محبوب اپنی محبوبہ کو صدیوں بعد مل رہا ہو۔۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کے حسن میں اس قدر کھوئے کہ کچھ دیر کے لئے تو دنیا اور مافیہا سے بے نیاز پتھر کا مجسمہ بنے رہے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔
پھر جن زاد یاسمین کی طرف بڑھنے لگا ۔۔جوں جوں جن زاد اس کے قریب آ رہا تھا اس اپنے دل کی دھڑکن اپنے کانوں میں سنائی دینے لگی ۔۔۔۔۔۔۔جن ذاد نے بستر پر بیٹھتے ہی اس کے ہاتھوں کو پکڑا اور اپنے ہونٹوں سے لگا لیا ۔۔۔۔پھر دونوں کی نظریں ملیں آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارے ہوئے تو جن زاد نے اسے اپنی باہوں کے حصار میں بھر لیا ۔۔
جن زاد کی باہوں میں آتے ہی اس کا جسم شدت جذبات سے جھلسنے لگا ۔۔۔۔ اس پر ہیجانی کیفیت طاری ہوگئی ۔۔۔وہ کسی کٹی پتنگ کی طرح اس کی جھولی میں گر پڑی اور پھر سے اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی. . . جن ذاد اپنا سر اس کی گردن اور سینے کے بیچ رکھ کر گہری سانسیں لینے لگا ۔۔۔۔شاید وہ اس کے جسم کی خوشبو کو اپنے اندر سمونا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
جن زاد کی یہ حرکت دیکھ کر اس کے پورے جسم میں کھلبلی مچ گئی ۔۔اسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے کسی نے اسے بوتل میں قید کر لیا ہو ۔۔۔جنسی مزے کی ایسی شدت محسوس ہوئی جیسے ابھی اس کا کلیجہ حلق کے راستے باہر نکل آئے گا ۔۔۔دل کی دھڑکن اپنی اونچائیوں پر پہنچ چکی تھی ۔۔۔اسے ایسا لگا جیسے جسم کا سارا خون اس کی چھاتیوں میں ٹھہر کر رقص کرنے لگا ھو ۔۔۔۔۔
جن ذاد نے اپنا سر اس کے سینے سے اٹھایا تو اس کی آنکھیں یاسمین کے حسین چہرے کا طواف کرنے لگیں ۔۔۔۔یاسمین کی تو یہ حالت تھی کہ وہ شدت جذبات سے گہری گہری سانس لے رہی تھی ۔۔۔اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔۔وہ اس انداز میں جن زاد کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔جیسے کوئی موت سے پہلے اپنے قاتل سے التجا کر رہا ہوکہ مجھے جلدی سے ختم کر کے اس درد و اذیت بھری زندگی سے آزاد کر دو ۔۔۔۔لیکن اس کا درد تو میٹھا درد تھا ۔۔۔۔۔
جیسے ہی جن ذاد نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھے وہ بنا پانی کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگی ۔۔ٹانگیں تیزی سے بستر کی چادر پر حرکت کرنے لگیں ۔۔۔مزے کی شدت سے وہ اپنی ایڑیاں رگڑ رہی تھی ۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ جن ذاد کی گردن کی پچھلی طرف اس طرح کس لیے تھے کہ جن زاد کا سر حرکت تک نہ کر سکے ۔۔۔۔جب یہ لطف و سرور اس کی برداشت سے باہر ہونے لگا اور اس پر موت کی سی کیفیت چھانے لگی۔۔۔ اسے شدتِ حوس سے اپنا دم گھٹتا محسوس ہونے لگا تو اس نے اپنے لمبے ناخن اس شدت سے جن زاد کی پشت پر گاڑھے کہہ کے ناخون جن زاد کی سخت چمڑی میں پیوست ہوگیے ۔۔اور وہاں سے خون بہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے کتنے ہی گھنٹے یوں ہی ایک دوسرے کے لبوں کو بوسہ دیتے گزار دیے ۔۔۔جب جن ذاد نے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی قید سے آزاد کیا تو وہ مزے کی شدت سے بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
جن ذاد نے اس کی حالت غیر ہوتی دیکھی تو جلدی سے فریج کی طرف دوڑا اور پانی کی بوتل اٹھا لایا ۔۔۔جیسے ہی پانی کے چھینٹے اس کے منہ پر پڑے تو اسے ہوش آنے لگا ۔۔پھر جن ذاد نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا گلاس اٹھایا اور اس میں پانی بھر کر اپنے ہاتھوں سے یاسمین کو پلانے لگا ۔۔۔۔پانی پینے کے بعد اس کی حالت قدرے بہتر ہو گئی تھی ۔۔۔۔جب اس نے نظر اٹھا کر جن زاد کی طرف دیکھا تو جن زاد اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں عجب سی شرارت بھری تھی ۔۔۔۔جب اسے احساس ہوا کہ وہ تو شدت مزہ سے بے ہوش ہو گئی تھی تو اس نے اپنی نظریں جھکا لیں اور دل ہی دل میں شرمندہ ہونے لگی ۔۔۔
اس کی یہ حالت دیکھ کر جن زد کو اس پر بے پناہ پیار آیا ۔۔۔جن زاد اسے مزید شرمندگی نہیں کرنا چاہتا تھا ورنہ تو اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ یاسمین کی حالت پر زور زور سے ہنسے ۔۔
لیکن اس نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے محبت بھرے انداز میں یاسمین سے پوچھا ،، تم ٹھیک تو ہو نا ؟؟
یاسمین نے اس کی بات سن کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولی۔۔۔جی میرے جن زاد میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
یہ سن کر جن ذاد نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔۔یاسمین نے اپنا چہرہ جنزاد کے چوڑے سینے میں چھپالیا اور پھر ساتھ ہی اسنے اپنے داہنے ہاتھ کا مقعہ بنایا اور پھر جنزاد کے سینے پر ضربیں لگانے لگی ۔۔۔اسکا انداز نرالا اور اچھوتا تھا ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی روٹھی محبوبہ کی ابھی ابھی اپنے عاشق سے صلح ہوئی ہو ۔۔
اس رات بھی ایک جن اور انسانی عورت کے ہیجان انگیز جنسی ملاپ کی نہریں بہتی رہیں ۔۔۔ساری رات یہ مقفل گھر یاسمین کی لطف و سرور میں ڈوبی جنسی آہوں سے گونجتا رہا ۔۔۔۔
جن اگلی رات پھر آیا ۔۔۔یہ ان کی ملاقات کی آخری رات تھی ۔۔۔اسے بھی بھرپور انداز سے منایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ یہاں بھی بے بس اور اس کے رحم و کرم پر رہی تھی ۔ جن زاد نے پہلے دن ہی اسے بتا دیا تھا کہ وہ صرف تین راتیں ہی اس کی نظر کرے گا اور پھر دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا ۔۔وہ اس بات پر قائم رہا تھا ۔ پھر وہ اس دن کے بعد کبھی اس کی زندگی میں نہیں آیا ۔ اس نے جو زبان دی تھی اس پر قائم رہا تھا ۔
جو بات جن زاد نے کی تھی وہ جوں کی توں ثابت ہوئی تھی ۔ واقعی اس کے جیسا مرد اس کی زندگی میں کبھی نہ آیا تھا ۔۔۔ وہ اسے کبھی بھول بھی نہی سکتی تھی ۔۔ جب نو ماہ بعد اس نے ایک خوبصورت سے بچے کو جنم دیا تو اس کے شوھر جاسم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔
لیکن صرف وہی جانتی تھی اور یہ بات صرف ایک ماں ہی بتا سکتی ہے کہ اس نے جس بچے کو جنم دیا ہے وہ کس کا خون ہے ؟ یہ خون جن زاد کا تھا ۔ اس کی نشانی تھی اس کی مامتا آڑے نہ آتی تو وہ اپنے اس بچے کا خون کر دیتی ۔ اس نے پورے نو ماہ اس نشانی کو اپنی کوکھ میں رکھا تھا ۔ اس کی کیسی مجبوری اور بے بسی تھی کہ وہ یہ بات دنیا میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی ۔
اس کے بیٹے کا نام ہارون تھا ۔ہارون نے پچیس برس کی عمر میں جب کاروبار سنبھالا تو اس کی ماں یاسمین بیوہ ہو چکی تھی ۔تحریر ۔جن زاد
وقت اپنے پر پھیلاے تیزی سے اڑتا رہا ۔۔
ایک روز یاسمین نے ایک عجیب اور ہولناک منظر دیکھا ۔ ہوا یہ تھا کہ اس کی نوجوان ملازمہ جب زینے پر سے پھسل کر گری تو تب یاسمین اپنے کمرے میں تھی ۔
ملازمہ نے ایک زوردار چیخ ماری تھی ۔ جب وہ کمرے سے باہر نکلی تو ایک دم سے ٹھٹک گئی ۔ اس کی ملازمہ فرش پر بے ہوش پڑی تھی ۔ اس کی پیشانی پر جو زخم آیا تھا ۔ اس سے خون کا فوارہ ابل پڑا تھا ہارون تیزی سے ملازمہ کی طرف آیا اور اس نے اسے اٹھا کر اپنی آغوش میں بھر لیا اور پھر اس کے چہرے پر جھک گیا ۔
اس نے اپنی زبان باہر نکالی اور ملازمہ کے چہرے کا خون اس طرح چاٹنے لگا جیسے کوئی بچہ آئس کریم چاٹتا ہے ۔ جب اس نے سارا خون چہرے سے چاٹ لیا تو پھر اس نے زخم پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور اس کی نسوں میں بہتا گرم گرم خون چوسنے لگا ۔
یاسمین یہ منظر دیکھ کر بھونچکی سی ہوگئی ۔ چند لمحوں تک اس پر خوف اور سکتے کی سی کیفیت طاری رہی ۔ .
ملازمہ کا خون پیتے ہوئے ہارون انسان نہیں بلکہ کوئی درندہ معلوم ہوتا تھا ۔ یہ کریہہ منظر اس نے پہلی بار دیکھا تھا ۔ اسے یقین نہیں آیا تھا کہ اسکا بیٹا درندہ صفت ہے ۔ وہ حیران تھی کہ کوئی آدمی انسان کا خون اس طرح سے کیسے پی سکتا ہے ۔ اس کا بیٹا کوئی جنگلی اور وحشی نہیں تھا ۔ اس نے اعلی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اس کی اچھی تربیت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی گئی تھی ۔ پھر اس کے باوجود وہ درندہ صفت کیوں اور کیسے بن گیا ؟ کب سے وہ انسانی خون پی رہا ہوگا ؟ اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات اور سوالوں کی بھرمار ہونے لگی تھی ۔ پھر اس کے ذہن میں ایک ہی جواب آیا ۔ وہ یہ کہ ہارون جن زاد کا بیٹا ہے جو 2 سو برس سے انسانی لہو شراب اور پانی کی طرح پیتا رہا ' خون کا اثر ہونا یقینی ہے ۔ جناتی خون نے ایک درندہ صفت کو جنم دیا تھا ۔۔جو نہ انسان تھا نہ جن بلکہ ان دونوں کے بیچ کی کوئی کڑی معلوم ہوتا تھا ۔۔ اس نے اس دن پہلی اور آخری بار ہارون کو خون پیتے دیکھا تھا ۔ پھر کبھی نہیں دیکھا ۔شاید وہ بہت محتاط ہو گیا تھا ۔۔۔۔
اس کی ملازمہ کا نام ماہی تھا ۔۔ماہی صرف اس کے ملازمہ ہی نہیں بلکہ اس کی رکھیل بھی تھی ۔۔ ماہی اور اس کی ملاقات حادثاتی تھی ۔ 3 سال پہلے جب ماہی کی ماں نے دوسری شادی کی تو اسکے چار مہینے بعد ہی ماہی اپنے گھر سے فرار ہو کر اپنی ایک بیوہ خالہ کے ہاں کراچی آگئی تھی ۔ کیوں کہ سوتیلے باپ نے ایک رات اس کی ماں کی چاۓ میں بے ہوشی کی دوا ملا دی اور پھر صبح تک ماہی کی عزت کو تار تار کرتا رہا ۔۔ماہی نے بچنے کی بہت کوشش کی مگر وہ ایک ادھیڑ عمر توانا مرد کے آگے بے بس تھی ۔۔۔سوتیلے باپ نے ماہی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے کچھ بھی اپنی ماں کو بتایا تو وہ اس کی ماں کو طلاق دے دے گا ۔۔۔۔ اس کی ماں کی پہلے ہی ایک بار طلاق ہو چکی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی ماں کا ایک بار پھر سے گھر آجڑ جاۓ ۔۔۔وہ اپنی ماں سے شدید محبت کرتی تھی ۔اسنے خاموشی کو ہی عافیت جانا ۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی اسنے اپنا سامان پیک کیا اور اپنی ماں کو بنا کچھ بتائے اپنی خالہ کے گھر آگئی ۔۔۔
اس نے نرس کا کورس کیا ہوا تھا۔۔
یہاں آنے کے بعد اس نے نوکری کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کیے ۔۔بے پناہ کوششوں کے باوجود اسے سرکاری ملازمت تو نہ مل سکی لیکن ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بڑی منتوں ترلوں کے بعد نرس کی جاب مل گئی ۔۔۔۔ یھاں بھی ڈاکٹر اور ہسپتال مالکان اسے ہراساں کرتے رہے ۔۔ ۔ اسے اپنی جاب برقرار رکھنے کے لیے اپنا جسم انہیں سومپنا پڑتا تھا ۔۔۔تحریر جن زاد
چوں کہ اسے یھاں اچھی تنخواہ اور سہولتیں مل رہی تھیں اس لیے وہ یہ زہر خاموشی سے پیتی رہی ۔ اس کے علاوہ اسکے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔ اس جہاں میں وہ اکیلی عورت نہیں تھی جسے یہ سب سہنا پڑا رہا تھا ۔ یہ دنیا ہے ہی ایسی ۔۔۔یھاں بے سہارا ، اور ضرورت مند لڑکیوں کی بے بسی اور مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے ۔ اس ہسپتال میں کام کرنے والی سبھی نرسوں کو یہ زہر پینا پڑ رہا تھا ۔ اس کے سوا انکے لڑکیوں کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔
ایک رات جب وہ ڈیوٹی سے فارغ ہوکر گھر جارہی تھی تو ایک ویران اور نیم اندھیری گلی میں چار بدمعاشوں نے اسے گھیر لیا ۔ ایک نے اسے بازوں سے دبوچ کر بے بس کر دیا ۔ دوسرے نے اس کے منہ پر ٹیپ چکا دیا اور تیسرے نے اس پر چاقو تان لیا ۔ چوتھا اسے بے لباس کرنے والا ہی تھا کہ اتفاق سے ہارون اپنی گاڑی میں ادھر آ نکلا ۔۔۔اس نے جب یہ منظر دیکھا تو گاڑی روک لی ۔ اس کے پاس ریوالور تھا ۔ جب اس نے بدمعاشوں کو للکار کر فائر کیا تو وہ چاروں بدمعاش کتوں کی طرح دم دبا کر بھاگ نکلے ۔
پھر ہارون اس رات تو اسے اسکے گھر چھوڑ آیا ۔ لیکن پھر روزانہ ان کی ملاقات ہونے لگی ۔۔
ہارون کو ایک ملازمہ اور بستر کی ساتھی کی اشد ضرورت تھی ۔ اسے جس قسم کی عورت کی تلاش تھی ماہی اس کے معیار اور پسند پر پوری اترتی تھی ۔ وہ ہر لحاظ سے موزوں تھی ۔ کالا حسن تھا ۔ نقش و نگار تیکھے اور دل میں اتر جانے والے تھے۔اس میں ایک ہیجان خیز کشش تھی جو دل کو گرما دیتی تھی ۔ ایسی پرکشش عورت خال خال ہی دکھائی دیتی ہیں ۔ وہ سیاہ حسن کی ایک نادر نمونه تھی ۔
جب ہارون نے ماہی کے حالات جاننے کے بعد اسے اپنے گھر ملازمت کی پیش کش کی تو اس نے اس لیے قبول کر لی تھی کہ دس دس آدمیوں کے ہاتھوں مشق ستم بننے سے ایک ہی مرد کے ہاتھ کا کھلونا بننا بہتر تھا ۔ اسے ہسپتال میں صرف تین ہزار تنخواہ ملتی تھی جب کہ یہاں دس ہزار تھی ۔ اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں ۔
دوستو یہاں تک بڑھ کر بتائیں آپ لوگوں کو کہانی کیسی لگی ۔۔۔۔آپ لوگ بس نیکسٹ نیکسٹ کا ہی کمنٹ کرتے رہتے ہو ۔۔۔آپ لوگ مجھے بتایا کرو کہ آج کی کہانی کیسی تھی . ۔۔۔کہانی میں کوئی کمی تو نہیں تھی ۔۔۔
تحریر جن زاد
شیطان کی محبوبہ
از قلم جن زاد
قسط 4
پچھلی تمام اقساط کا لنک پوسٹ کے آخر میں موجود ہے۔
ماہی اس عظیم الشان اور پرشکوہ کوٹھی کے صرف بیرونی حصے تک محدود تھی ۔ وہ اس کوٹھی کی واحد ملازمہ تھی ۔۔
۔ اسے کوٹھی کے عقبی حصے میں آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ عقبی حصے میں جانے کے لیے جو کمرا تھا اس کا دروازہ ہر وقت مقفل رہتا تھا ۔ اور اس دروازے کی چابی صرف ہارون کے پاس ہوتی تھی ۔۔
اس عقبی حصے میں ایک نہایت وسیع وعریض اسٹوڈیو بھی تھا جہاں ہارون اپنا پینٹنگ اور تصویر کشی کا شوق پورا کرتا تھا۔۔۔
ہارون کا رہائشی کمرہ بھی عقبی حصے میں ہی تھا ۔۔ اسکا کمرہ نہایت آراستہ تھا اور خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا ۔ اس کمرے کی دیواروں پر بڑے بڑے آئینے نصب تھے جو چھت سے فرش تک تھے ان کے پیچھے موجود دیوار بلکل دکھائی نہ دیتی تھیں ۔ پوری چھت پر بھی بہت ہی خوبصورت اور شفاف آئینہ تھا ، جس میں فرش ، بستر اور پورے کمرے کا عکس نظر آتا تھا ۔ اسٹوڈیو کے نیچے ایک تہ خانہ تھا ۔ ان سب کے بارے میں ماہی کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا ۔
ماہی کا یہ خیال تھا کہ شاید اس دوسرے بڑے حصے میں کمرے ہوں گے اور ہارون نے شاید وہاں اپنی دولت چھپا رکھی ہوگی ۔۔۔۔جیسے بڑے بڑے امیر لوگ اپنی کالی آمدنی ٹیکس بچانے کے لیے گھروں میں چھپا کر رکھتے ہیں اس نے بھی ایسا ہی کچھ کیا ہوا ہوگا ۔۔۔ ۔
اسے جس دوسرے حصے میں آنے کی ممانعت تھی اس کے بارے میں سوچتی تھی کہ اتنے بڑے حصے کی صفائی کون کرتا ہوگا ؟ اس نے ابتداء میں اس حصے کی صفائی کرنے کے لیے کہا تو ہارون نے اسے بری طرح جھڑک دیا تھا ۔۔۔ اسے اس حصے کے متعلق سوال کرنے سے بھی روک دیا تھا ۔۔
اس نے کئی مرتبہ مالک کی غیر موجودگی میں مالک کی رہائشی حصے کے بارے میں جاننے کی کوشش کی کہ آخر کیا اسرار ہے ؟ کیا بعید ہے ۔۔۔ ؟ باوجود کوشش کہ وہ کچھ نہ جان سکی ۔ کیا وہ لڑکیاں لاتا ہوگا ؟ اگر وہ لڑکیوں کو لے کر آتا ہوگا تو اسے بھلا کون روک سکتا تھا ؟ وہ اسے باز رکھ نہیں سکتی تھی ۔ کیوں کہ وہ اس کی ملازمہ اور داشتہ تھی بیوی نہیں تھی ۔
ہارون گھر میں صرف ناشتا کرتا تھا جو ماہی ہی تیار کرتی تھی ۔ وہ ٹھیک صبح نو بجے ناشتے کی میز پر آتا ۔ وہ لنچ باہر ہی کرتا تھا ۔ اگر اسے رات کا کھانا کھانا ہوتا تو وہ اسے اپنی من پسند ڈش کے بارے میں صبح ہی بتا جاتا تھا ۔۔۔
نوٹ ⛔
دوستو جو لوگ اس کہانی کی تمام اقساط پڑھنا چاہتے ہیں مجھے فرینڈ ریقويسٹ بھیج دیں ۔ تاکہ میں جب بھی اگلی قسط پوسٹ کروں تو آپ لوگوں کو نوٹیفکیشن مل جایا کرے ۔۔۔دوستو پوسٹ کو شیئر بھی ضرور کریں ۔۔
ماہی کھانا پکانے میں بڑی مہارت رکھتی تھی ۔ ایسے ایسے لذیذ ذائقہ دار اور مزے دار کھانے پکاتی تھی کہ ہارون اپنی انگلیاں چاٹ لیتا تھا ۔ ہارون کو جب بھی اس کی ضرورت اور طلب محسوس ہوتی تو وہ رات کے کسی بھی پہر اس کے کمرے میں چلا آتا اور اسے گہری نیند سے بیدار کر لیتا تھا ۔۔۔۔
ہارون نے وقت گزاری کے لیے کوئی دن مقرر نہیں کیا تھا ۔۔۔ماہی اسکے بستر کی ساتھی تھی ۔وہ اس کی آرزو اور خواہش تھی۔۔۔۔ ماہی بھی اس پر کسی بدلی کی طرح برستی تھی ۔ وہ اس بات کو جانتی تھی کہ اس کے مالک جیسا خوبصورت مرد شاید ہی اس دنیا میں کوئی اور ہوگا ۔
اس نے کئی بار غیر محسوس انداز سے دل کی بات اپنے مالک سے کہی تھی۔۔۔وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنی ہر رات اپنے مالک کے ساتھ بسر کرے لیکن وہ اس کے لیے تیار نہ ہوتا تھا ۔ اس کے مالک کا ہفتہ میں ایک مرتبہ بدھ کے روز معمول ہوتا تھا کہ ناشتے سے فراغت پانے کے بعد ایک قدرے بڑی سی سرنج میں اس کا خون بھر لیتا تھا ۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ وہ ہر ہفتہ اس کا خون لیبارٹری میں ٹیسٹ کروانے اس لیے لے جاتا ہے کیونکہ طرح طرح کی بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں ۔ سب سے مہلک اور خطرناک بیماری ہیپا ٹائٹس اور ایڈز ہے ۔
اسے اور خود کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ہفتہ خون ٹیسٹ کیا جائے تا کہ کسی بھی مہلک قسم کے مرض کا حملہ نہ ہو ۔ کسی بیماری کے بارے میں معلوم ہونے پر اس کا علاج اور تدارک بروقت کیا جا سکے ۔ وہ اپنی محبوبہ اور ملازمہ کو ایک صحت مند اور چاق و چوبند عورت کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس لیے وہ اسے کہتا تھا کہ وہ ایسی غذاؤں کا استعمال بہ کثرت کیا کرے جس سے زیادہ سے زیادہ خون پیدا ہو ۔ وہ اس کے لیے ہر ماہ دس ہزار کی رقم دیتا تھا ۔ وہ دو برس سے ملازمت کر رہی تھی اور اس کی داشتہ بنی ہوئی تھی ۔ لیکن اس نے ایک بار بھی خون کی رپورٹ کے بارے میں اسے نہیں بتایا تھا ۔ وہ تین چار بار ابتداء میں رپورٹ کے بارے میں پوچھ چکی تھی ۔ لیکن اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ اگر ایسی ویسی رپورٹ آئی تو وہ اسے بتا دے گا ۔ لہذا اسے چاہیے کہ وہ آئندہ رپورٹ کے بارے میں نہ پوچھے ۔ اپنے کام سے کام رکھے ۔ مالک کے چہرے پر ناگواری اور لب و لہجے میں غصہ محسوس کر کے اس نے رپورٹ کے متعلق پوچھنا بند کر دیا ۔ ہارون نے اسے سختی سے اس بات کی تاکید کی ہوئی تھی کہ کسی اجنبی اور ملاقاتی کو گھر کے اندر نہ آنے دیا جاۓ ۔ اسے باہر سے ہی ٹرخا دیا جاۓ ۔ اگر کسی نے زبردستی اندر گھسنے کی کوشش کی تو وہ اسے بلا تامل گولی مار دے ۔ پولیس سے میں خود نمٹ لوں گا ۔ اس نے حفاظت کی غرض سے اسے ایک ریوالور دے رکھا تھا ۔
ریوالور بیرونی دروازے کے پاس جو میز تھی اس کی دراز میں رکھا ہوتا تھا ۔ دو برس کے اس عرصے میں اس کے مالک سے ملنے کے لیے دو ملاقاتی بھی نہیں آئے تھے ۔ ٹیلی فون موجود تھا ، لیکن اس کی گھنٹی کبھی نہی بجی تھی ۔ یہ ایک جیل نما حویلی تھی ۔
وہ اس حویلی کی صفائی ستھرای کرتی اور اپنے لیے ایک سے ایک عمدہ کھانا پکاتی اور ٹی وی کے پروگرام دیکھنے میں وقت گزارتی تھی ۔ اس طرح اسکے دن سکون سے گزر رہے تھے ۔۔۔
جب کسی رات اس کا مالک اس کے کمرے میں آتا تو وہ بے انتہا خوش ہو جاتی ۔ اسے یہ رات سہاگ کی پہلی رات کی طرح لگتی تھی ۔
وہ ایک طرف بہت خوش تھی کہ اس کا مالک بڑا فیاض ہے ۔ وہ اسے ہر ماہ دس ہزاروں روپے اس کوٹھی کے سودا سلف کے لیے دیتا ہے ۔۔۔اسکی دس ہزار روپے تنخواہ الگ سے تھی ۔۔۔ ۔ اس کے علاوہ ہر ہفتہ 5 ہزار روپے شاپنگ کے لیے بھی دیتا تھا تاکہ وہ ملبوسات اور میک اپ کی لوازمات خرید سکے ۔ اس کے مالک نے کبھی اس سے حساب نہیں مانگا تھا ۔ وہ سودا سلف میں سے خاصی رقم بچا لیتی تھی ۔
دو چار مہینے میں ایک مرتبہ وہ اپنی ماں کے لیے بھی شاپنگ کرتی تھی ۔ اس کے پاس بہنننے کے بہت جوڑے تھے ۔ میک اپ کی لوازمات تین چار ماہ میں ایک بارخریدتی تھی ۔ ہر اطوار کے دن صبح سے شام تک اسے چھٹی ملتی تھی تاکہ وہ اپنی ماں سے مل کر سیر و تفریح کر کے رات دس بجے لوٹ آۓ ۔ اسے اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ کسی مرد یا کسی بھی عورت سے کسی قسم کا کوئی تعلق رکھے ۔ اس کی ماں کو بھی اس سے ملنے کے لئے کوٹھی آنے کی اجازت نہ تھی ۔
اس نے اپنی ماں کو بھی اپنی ملازمت اور مالک کے بارے میں کچھ نہی بتایا تھا ۔ ہارون نے اسے صرف اپنی ماں کے ہاں جانے کی اجازت دی ہوئی تھی ۔ ۔ وہ اپنے سوتیلے باپ کی وجہ سے بہت کم اپنی ماں سے ملنے جایا کرتی تھی ۔۔۔یا پہلے پڑوس سے پتہ کر لیتی تھی کہ اسکی ماں گھر پر ہے یا نہی ۔۔۔
کیونکہ اس کا باپ متعدد بار ماں کی غیر موجودگی میں اس کا فائدہ اٹھا چکا تھا ۔ اور وہ سوتیلے باپ کے رحم وکرم پر ہوتی تھی ۔ اس کا سوتیلا باپ اسے ایک طرح سے دھمکی دیتا اور بلیک میل کرتا تھا کہ اگر اس نے اس کی کسی بات سے انکار کیا تو وہ اس کی ماں کو طلاق دے دے گا ۔ اپنی ماں کی خاطر وہ سوتیلے باپ کی ہر بات ماننے کے لیے تیار تھی
۔ وہ کچھ رقم بینک میں اس لیے پس انداز کر رہی تھی تا کہ کسی دن وہ اپنی ماں کو اس بھیٹربے صفت باپ سے نجات دلا دے ۔ اسے اپنی ماں سے بڑی محبت تھی ۔ وہ اپنی ماں کے لیے ہرقسم کی قربانی دینے کو تیارتھی ۔ دوسری طرف وہ اپنے مالک سے بے حد خوف اور سہمی ہوئی سی رہتی تھی کیونکہ اسے اپنے مالک کی شخصیت بے حد پراسرار ، عجیب اور خوف ناک سی معلوم ہوتی تھی ۔ وہ اس کے لیے ایک معمہ تھا ۔ اس نے جیسے اپنے اوپر خول چڑھایا ہوا تھا ۔ بعض اوقات اسے اپنے مالک کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک نظر آتی تھی ۔ اسے ان آنکھوں میں جنات کی سی آنکھوں کا دھوکا ہوتا تھا ۔ نشاط انگیز لمحات میں یہ آنکھیں اسے ہپناٹائز کر کے مسحور اور مدہوش سی کر دیتی تھیں ۔ جب وہ اس بارے سوال کرتی تو وہ بڑے جذباتی لہجے میں کہتا ۔ در اصل تم اس قدر خوب صورت ہو کہ میں خود پر قابو نہیں رکھ پاتا ۔ اس میں میرا نہیں تمہارے اس حسن کا قصور ہے ۔ وہ اس کی زبان سے اپنی تعریف سن کر خوش ہو جاتی ۔ ہارون صبح جاتا تو شام کو آتا تھا ۔ لیکن کس وقت. ؟ یہ اسے پتا نہیں چلتا تھا ۔ صبح جاتے وقت معلوم ہوتا تھا ۔ وہ ناشتا کر کے اندرونی حصے میں چلا جاتا تھا ۔ اندورنی حصے کا راستہ جس کمرے سے گزرتا تھا وہ اس کمرے کا دروازہ مقفل کر جاتا تھا ۔ اس کے پاس تین گاڑیاں تھیں ۔ وہ اسے رخصت کرنے برآمدے تک آتی جب وہ چلا جاتا تو پھر وہ اپنی خواب گاہ میں آ کر سنگار میز کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے آپ کو پوری آزادی سے اور ہر زاویہ سے ناقدانہ نظروں سے دیکھتی جائزہ لیتی اور سوچتی کہ ہارون اس کے بارے میں غلط نہیں کہتا ۔ وہ واقعی بے حد حسین عورت ہے ۔ اس کی رنگت گہری سیاہ تھی ۔ ۔ اس کا قد لمبا تھا ۔ جس نے اس کے مچھریرے بدن کو قیامت اور بے حد پرکشش بنا دیا تھا ۔ سیاہ فام عورت ہونے کے باوجود اس میں ایسی جاذبیت تھی کہ راہ چلتے لوگ اسے مڑ مڑ کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے تھے ۔ وہ جہاں جاتی وہ توجہ کا مرکز بن جاتی ۔
دوستو یہاں تک بڑھ کر بتائیں آپ لوگوں کو کہانی کیسی لگی ۔۔۔۔آپ لوگ بس نیکسٹ نیکسٹ کا ہی کمنٹ کرتے رہتے ہو ۔۔۔آپ لوگ مجھے بتایا کرو کہ آج کی کہانی کیسی تھی . ۔۔۔کہانی میں کوئی کمی تو نہیں تھی ۔۔۔
تحریر جن زاد



0 Comments